عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ . فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ أَنُعْطِي مَنْ لاَ شَرِبَ وَلاَ أَكَلَ وَلاَ صَاحَ فَاسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ بَلْ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَقَالَ بَعْضُهُمُ الْغُرَّةُ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ أَوْ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ . وَقَالَ بَعْضُهُمْ أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Hurairah that "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) judged that a Ghurrah male slave or female slave be given in the case of a fetus. The one of the judgement was made against said: 'Should we give something for one who did not drink, not eat, nor cry out to shed a tear, the likes of which is useless?' So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'This is the speech of a poet. Rather it requires a Ghurrah: a male slave or a female slave
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے «جنين» ( حمل ) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی ( دینے ) کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا وہ کہنے لگا: کیا ایسے کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ چیخا، نہ آواز نکالی، اس طرح کا خون تو ضائع اور باطل ہو جاتا ہے، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ شاعروں والی بات کر رہا ہے ۱؎، «جنين» ( حمل گرا دینے ) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینا ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حمل بن مالک بن نابغہ اور مغیرہ بن شعبہ سے احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- غرہ کی تفسیر بعض اہل علم نے، غلام، لونڈی یا پانچ سو درہم سے کی ہے، ۵- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: «غرة» سے مراد گھوڑا یا خچر ہے۔
