عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَتْهُ عَمْرَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ مَرْفُوعًا وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Aishah (may Allah be well pleased with her) narrated that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would cut (the hand of the thief) for a quarter of a Dinar and above. Abu Isa said: The hadith of Hadrat Aishah is Hasan Sahih. This hadith has been reported from Amrah from Hadrat Aishah in Marfu' form through multiple chains, and some narrated it from Amrah from Hadrat Aishah in Mawquf form.
اردو ترجمہ
حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو جائے تو وہ ( رشتہ دار ) آزاد ہو جائے گا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ ہی کی روایت سے مسنداً ( مرفوعاً ) جانتے ہیں، ۲- اور بعض لوگوں نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( موقوفاً ) روایت کیا ہے۔ اس سند سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا انہوں نے حماد بن سلمہ سے اور حماد نے قتادہ اور عاصم احول سے اور قتادہ اور عاصم نے حسن بصری سے اور حسن نے سمرہ سے اور سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص کسی محرم قرابت دار کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا“، امام ترمذی فرماتے ہیں: ۳- محمد بن بکر کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے عاصم احول کا ذکر کیا ہو اور انہوں ( عاصم ) نے حماد بن سلمہ سے روایت کی ہو، ۴- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ۵- حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص کسی محرم قرابت دار کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا“۔ اسے ضمرہ بن ربیعہ نے ثوری سے روایت کیا ہے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، اور عبداللہ نے حضرت ابن عمر سے اور حضرت ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے۔ اس حدیث کی روایت میں لوگوں نے ضمرہ کی متابعت نہیں کی ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ حدیث غلط ہے ۱؎۔
