عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَبُولُ قَائِمًا فَلاَ تُصَدِّقُوهُ مَا كَانَ يَبُولُ إِلاَّ قَاعِدًا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ وَبُرَيْدَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَنَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَائِشَةَ أَحْسَنُ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَصَحُّ . وَحَدِيثُ عُمَرَ إِنَّمَا رُوِيَ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ رَآنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبُولُ قَائِمًا فَقَالَ " يَا عُمَرُ لاَ تَبُلْ قَائِمًا " . فَمَا بُلْتُ قَائِمًا بَعْدُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَإِنَّمَا رَفَعَ هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ وَتَكَلَّمَ فِيهِ . وَرَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ عُمَرُ رضى الله عنه مَا بُلْتُ قَائِمًا مُنْذُ أَسْلَمْتُ . وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْكَرِيمِ وَحَدِيثُ بُرَيْدَةَ فِي هَذَا غَيْرُ مَحْفُوظٍ . وَمَعْنَى النَّهْىِ عَنِ الْبَوْلِ قَائِمًا عَلَى التَّأْدِيبِ لاَ عَلَى التَّحْرِيمِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ مِنَ الْجَفَاءِ أَنْ تَبُولَ وَأَنْتَ قَائِمٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Aishah said: "Whoever narrated to you that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) would urinate while standing; then do not believe him. He would not urinate except while squatting." [He said:] There are narrations on this topic from Umar, Buraidah, [and Abdur-Rahman bin Hasanah]
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جو تم سے یہ کہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی تصدیق نہ کرنا، آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- اس باب میں عمر، بریدہ، عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ حدیث سب سے زیادہ عمدہ اور صحیح ہے، ۳- عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو“، چنانچہ اس کے بعد سے میں نے کبھی بھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث کو عبدالکریم ابن ابی المخارق نے مرفوعاً روایت کیا ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ایوب سختیانی نے ان کی تضعیف کی ہے اور ان پر کلام کیا ہے، نیز یہ حدیث عبیداللہ نے نافع سے اور نافع نے حضرت ابن عمر سے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔ یہ حدیث عبدالکریم بن ابی المخارق کی حدیث سے ( روایت کے اعتبار سے ) زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۴- اس باب میں بریدۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث محفوظ نہیں ہے، ۵- کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت ادب کے اعتبار سے ہے حرام نہیں ہے ۳؎، ۶- حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ تم کھڑے ہو کر پیشاب کرو یہ پھوہڑ پن ہے ۴؎۔
