عربی (اصل)
قَالَتْ زَيْنَبُ وَسَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا أَفَنَكْحَلُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ " لاَ " . ثُمَّ قَالَ " إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ فُرَيْعَةَ بِنْتِ مَالِكٍ أُخْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَحَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ زَيْنَبَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . - وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ أَنَّ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَتَّقِي فِي عِدَّتِهَا الطِّيبَ وَالزِّينَةَ . وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Humaid bin Nafi narrated that Hadrat Zainab (may Allah be well pleased with her) said: "And I heard my mother, Hadrat Umm Salamah said: 'A woman came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and she submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! My daughter's husband died, and she is suffering from an eye ailment, so can she use Kohl?" the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "No" two or three time. Each time (she asked) he said "no." Then he said: "It is just a mater of four months and ten (days). During Jahliyyah one of you would throw a clump of camel dung when one year passed
اردو ترجمہ
(تیسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں میں نے اپنی ماں حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر مر گیا ہے، اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں؟ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”نہیں“۔ دو یا تین مرتبہ اس عورت نے آپ سے پوچھا اور آپ نے ہر بار فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ” ( اب تو اسلام میں ) عدت چار ماہ دس دن ہے، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے ( فوت شدہ شوہر والی بیوہ ) عورت سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- زینب کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری کی بہن فریعہ بنت مالک، اور حفصہ بنت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم کا اسی پر عمل ہے کہ جس عورت کا شوہر مر گیا ہو وہ اپنی عدت کے دوران خوشبو اور زینت سے پرہیز کرے گی۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
