عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخُو قَبِيصَةَ بْنِ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّمَا كَانَتِ الْمُتْعَةُ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ كَانَ الرَّجُلُ يَقْدَمُ الْبَلْدَةَ لَيْسَ لَهُ بِهَا مَعْرِفَةٌ فَيَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ بِقَدْرِ مَا يَرَى أَنَّهُ يُقِيمُ فَتَحْفَظُ لَهُ مَتَاعَهُ وَتُصْلِحُ لَهُ شَيْئَهُ حَتَّى إِذَا نَزَلَتِ الآيَةُ : ( إِلاَّ عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ ) قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَكُلُّ فَرْجٍ سِوَى هَذَيْنِ فَهُوَ حَرَامٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Muhammad bin Ka'b narrated that Hadrat Ibn Abbas (may Allah be well pleased with him) said: "Mut'ah was only during the beginning of Islam. A man would arrive in a land that he was not familiar with so he would marry a woman for the extent of time that he thought he would remain there. So his Mut'ah was upheld and his case was fine until the (following) Ayah was revealed: Except their wives or what their right hands possess. Then every private part other than those became unlawful
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ متعہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ آدمی جب کسی ایسے شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنے قیام کی مدت تک کے لیے کسی عورت سے شادی کر لیتا۔ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی۔ اس کی چیزیں درست کر کے رکھتی۔ یہاں تک کہ جب آیت کریمہ «إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم» ”لوگ اپنی شرمگاہوں کو صرف دو ہی جگہ کھول سکتے ہیں، ایک اپنی بیویوں پر، دوسرے اپنی ماتحت لونڈیوں پر“، نازل ہوئی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: ان دو کے علاوہ باقی تمام شرمگاہیں حرام ہو گئیں۔
