عربی (اصل)
658 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْكَاتِبُ ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، قَالَ: قِيلَ لِأَبِي نَصْرٍ التَّمَّارِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكَ كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ وَكَانَ مَوْلَى هُذَيْلٍ، وَكَانَ مِنْ كَابَلَسْتَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَهَادَوْا بَيْنَكُمْ فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تَذْهَبُ بِالسَّخِيمَةِ»قَالَ أَبُو نَصْرٍ: نَعَمْ
انگریزی ترجمہ
It is narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Exchange gifts among yourselves, for indeed a gift removes grudges."
اردو ترجمہ
ابوقاسم عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابونصر التمار سے کہا: کیا جبکہ میں سن رہا تھا کہ کیا آپ کو کوثر بن حکیم نے بروایت مکحول دمشقی جو کہ قبیلہ ہذیل کے آزاد کردہ غلام تھے اور کابلستان کے تھے بیان کیا ہے کہ بے شک رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”آپس میں تحائف دیا کرو کیونکہ تحفہ کینہ کو دور کرتا ہے۔“ابونصر نے کہا: جی ہاں۔[مسند الشهاب/حدیث: 658]
