عربی (اصل)
595 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ وَالنَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى الصَّغِيرِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِسْوَرٍ الْهَاشِمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلشَّاكِّ فِي قُدْرَةِ اللَّهِ وَهُوَ يَرَى خَلْقَهُ، يَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُكَذِّبِ بِالنَّشْأَةِ الْأُخْرَى وَهُوَ يَرَى الْأُولَى، وَيَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُكَذِّبِ بِنُشُورِ الْمَوْتِ وَهُوَ يَمُوتُ كُلَّ يَوْمٍ وَكُلَّ لَيْلَةٍ وَيَحْيَى، وَيَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُصَدِّقِ بِدَارِ الْخُلُودِ وَهُوَ يَسْعَى لِدَارِ الْغُرُورِ، وَيَا عَجَبًا كُلَّ الْعَجَبِ لِلْمُخْتَالِ الْفَخُورِ وَإِنَّمَا خُلِقَ مِنْ نُطْفَةٍ، ثُمَّ يَعُودُ جِيفَةً وَهُوَ بَيْنَ ذَلِكَ لَا يَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِهِ»
انگریزی ترجمہ
How amazing is the one who doubts Allah's power while he sees his own creation! How amazing is the one who denies resurrection while he sees the first creation! How amazing is the one who denies life after death while he dies and comes back to life every day and night! How amazing is the one who believes in the eternal abode yet strives for the abode of deception! And how amazing is the one who is arrogant and boastful while he was created from a drop of fluid and will become a decaying corpse, not knowing what will be done with him.
اردو ترجمہ
ابوجعفر عبداللہ بن مسور ہاشمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے جو اللہ کی قدرت میں شک کرتا ہے حالانکہ وہ اپنی تخلیق کو دیکھتا ہے، اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے جو دوبارہ زندہ ہونے کو جھٹلاتا ہے حالانکہ پہلی مرتبہ (زندہ ہونے) کو دیکھتا ہے، اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے جو موت کے بعد زندہ ہونے کو جھٹلاتا ہے حالانکہ ہر دن اور ہر رات وہ مرتا ہے اور زندہ ہوتا ہے، اس شخص پر بہت ہی تعجب ہے جو دائمی زندگی کے گھر کی تصدیق کرتا ہے لیکن دھوکے کے گھر کے لیے کوشاں رہتا ہے، اور اس شخص پر بھی بہت ہی تعجب ہے جو تکبر کرنے والا، اترانے والا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک نطفہ سے پیدا کیا گیا پھر گلی سڑی لاش بنے گا اور اس حالت میں وہ نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا۔“[مسند الشهاب/حدیث: 595]
