عربی (اصل)
1124 - أنا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاسِمُ بْنُ اللَّيْثِ بْنِ مَسْرُورٍ الرَّاسِبِيُّ، نا مُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ: قَالَتْ فَلَمَّا دَخَلَ هَشَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْبَسَطَ لَهُ ثُمَّ خَرَجَ الرَّجُلُ وَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ آخَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَأْذَنَ نِعْمَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ لَمْ يَنْبَسِطْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا انْبَسَطَ لِلْآخَرِ، وَلَمْ يُهَشَّ لَهُ قَالَتْ: فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ لِفُلَانٍ مَا قُلْتَ ثُمَّ هَشَشْتَ وَانْبَسَطْتَ إِلَيْهِ، وَقُلْتَ لِفُلَانٍ مَا قُلْتَ ثُمَّ لَمْ أَرَكَ صَنَعْتَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ يَا عَائِشَةُ إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ مَنِ اتُّقِيَ لِفُحْشِهِ"
انگریزی ترجمہ
Salman (may Allah be pleased with him) said that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Indeed, Allah created on the day He created the heavens and the earth one hundred mercies. He placed one mercy among His creation, by which they show compassion to each other, and He deferred ninety-nine mercies to the Day of Resurrection."
اردو ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”بے شک یہ اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے۔“پھر جب وہ اندر آیا تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے کھل کر بشاشت کے ساتھ اس سے بات کی، جب وہ چلا گیا تو ایک دوسرے آدمی نے اجازت مانگی جب اس نے اجازت مانگی تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”یہ اپنے قبیلے کا اچھا آدمی ہے۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب وہ آدمی اندر آیا تو اس سے نہ تو آپ نے کھل کر بات کی جس طرح کہ پہلے سے کی تھی اور نہ اس طرح بشاشت سے پیش آئے۔ کہتی ہیں: جب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں شخص کے بارے میں فرمایا جو فرمایا پھر آپ نے کھل کر بشاشت کے ساتھ اس سے بات کی اور اس فلاں کے بارے میں فرمایا جو فرمایا لیکن اس کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرتے میں نے آپ کو نہیں دیکھا؟ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”عائشہ! بے شک لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جس کی فحش گوئی کی وجہ سے بچا جائے۔“[مسند الشهاب/حدیث: 1124]
