عربی (اصل)
1102 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِي، بِالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَةُ خَزٍّ لَمْ يُرَ عَلَيْهِ مِثْلُهَا، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ أَحَبَّ أَنْ يَرَى أَثَرَ نِعْمَتَهُ عَلَيْهِ»قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ: قَدْ أَسْنَدَ شُعْبَةُ عَنْ هَذَا الشَّيْخِ حَدِيثَيْنِ، وَلَا نَعْلَمُ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَ شُعْبَةَ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمُفَضَّلِ قَرَابَةٌ، فَإِنَّ هَذَا بَصْرِيٌّ، وَالْمُفَضَّلُ حِجَازِيٌّ، وَقَدْ تَفَرَّدَ بِالرِّوَايَةِ عَنْ شُيُوخٍ لَمْ يَرْوِ عَنْهُمْ غَيْرُهُ
انگریزی ترجمہ
Imran ibn Husayn (may Allah be pleased with him) came out wearing a silk robe, the like of which had never been seen on him. When he was asked about it, he said: The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah bestows a blessing upon a servant, He loves to see the effect of that blessing upon him."
اردو ترجمہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ ریشمی رومال اوڑھے باہر نکلے (اس سے پہلے) ان پر اس طرح کا (قیمتی) کپڑا نہیں دیکھا گیا تھا ان پر اعتراض ہوا تو انہوں نے کہا: بے شک رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”جب اللہ کسی بندے پر انعام کرتا ہے تو وہ یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔“ابوعبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحافظ کہتے ہیں: اس شیخ (مفضل بن فضالہ) سے شعبہ نے دو حدیثیں لی ہیں اور ہمارے علم میں شعبہ کے سوا کسی نے ان سے روایت نہیں لی، ان کے اور شعبہ کے درمیان کوئی قریبی تعلق نہیں کیونکہ یہ (شعبہ) بصری ہیں اور مفضل حجازی ہیں اور یقین کریں کہ شعبہ کئی (شیوخ) سے روایت کرنے میں منفرد ہے، ان (شیوخ) سے شعبہ کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔[مسند الشهاب/حدیث: 1102]
