عربی (اصل)
1025 - وَجَدْتُ بِخَطِّ شَيْخِنَا أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ الْغَنِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْحَافِظِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّازِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ الرَّقَاشِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا رَبَاحٌ أَبُو الْمُهَاجِرِ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو يَحْيَى الرَّقَاشِيُّ، عَنْ أَبِي سُورَةَ ابْنِ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَخَذَ بِعُضَادَتَيْ بَابِ الْمَسْجِدِ، وَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا جَاءَ، جَاءَ بِالرَّوْحِ وَالرَّحْمَةِ وَالْكَرَّةِ الْمُبَارَكَةِ لِأَوْلِيَاءِ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ دَارِ السُّرُورِ الَّذِينَ كَانَ سَعْيُهُمْ وَرَغْبَتُهُمْ فِيهَا، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، يَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا جَاءَ، جَاءَ بِالْحَسْرَةِ وَالنُّدَامَةِ وَالْكَرَّةِ الْخَاسِرَةِ لِأَوْلِيَاءِ الشَّيْطَانِ مِنْ أَهْلِ دَارِ الْغُرُورِ الَّذِينَ كَانَ سَعْيُهُمْ وَرَغْبَتُهُمْ فِيهَا، أَلَا إِنَّ لِكُلِّ سَاعٍ غَايَةً، وَغَايَةُ كُلِّ سَاعٍ الْمَوْتُ»
انگریزی ترجمہ
Abu Ayyub (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah (peace be upon him) came out to us one day, held the two sides of the mosque door, and called out in a loud voice: "O people! O people of Islam! Death has come with what it brought — it has come with rest, mercy, and a blessed return for the friends of Allah among the people of the abode of joy whose effort and desire were in it. O people! O people of Islam! Death has come with what it brought — it has come with regret, remorse, and a losing return for the friends of Satan among the people of the abode of delusion whose effort and desire were in it. Beware! Indeed, for every striver there is a goal, and the goal of every striver is death."
اردو ترجمہ
سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمہمارے پاس تشریف لائے آپصلی اللہ علیہ وسلمنے مسجد کے دروازے کی دونوں چوکھٹوں کو پکڑا اور بلند آواز سے پکارا:”اے لوگو! اے اہل اسلام! موت آئی جس کے ساتھ اس نے آنا تھا، وہ اللہ کے دوستوں کے لیے، جو دارالسرور والوں میں سے ہیں جن کی کوشش اور رغبت اس میں رہنے کی ہے، راحت و رحمت اور مبارک واپسی کے ساتھ آئی۔ اے لوگو! اے اہل اسلام! موت آئی جس چیز کے ساتھ اس نے آنا تھا وہ شیطان کے دوستوں کے لیے، جو دار الغرور والوں میں سے ہیں جن کی کوشش اور رغبت اس میں رہنے کی ہے، افسوس پچھتاوا اور گھانے والی واپسی کے ساتھ آئی۔ سنو! ہر کوشاں رہنے والے کی ایک حد ہوتی ہے اور ہر کوشاں رہنے والے کی حد موت ہے۔“[مسند الشهاب/حدیث: 1025]
