عربی (اصل)
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم، دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، قَالَ: فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ: ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: اقْتُلُوهُ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم، لَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا.
انگریزی ترجمہ
Hadrat Anas ibn Malik reported:“Allah’s Messenger (Allah bless him and give him peace) entered Mecca in the Year of Victory with the helmet on his head. When he took it off, a man came to him and told him: ‘Ibn Khatal is clinging to the curtains of the Ka'ba,’ so he said: ‘Kill him!’ Ibn Shihab said: ‘It has also reached me that Allah’s Messenger (Allah bless him and give him peace) was not in the state of ritual consecration on that day.’”
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھا۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اتارا تو ایک شخص آیا اور عرض کیا: ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا: اسے قتل کرو۔ ابن شہاب فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس دن حالتِ احرام میں نہ تھے۔
