عربی (اصل)
نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، قَالَ: نَا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ سورة الأعراف آية 172 قَالَ:" أَخَذَ مِنَ النَّبِيِّينَ كُلِّهِمْ قَبْلَ أَنْ يُخْلَقُوا"، قَالَ:" أَخَذَ النُّطَفَ مِنْ صُلْبِ آدَمَ , فَرَأَى مِنْهَا نُطْفَةً تَتَلأْلأُ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ بَنِيَّ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ جَعَلْتَ لَهُ؟ , قَالَ: سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ: أَقْلَلْتَ لَهُ، قَالَ: فَأَعْطِهِ مِنْ سِنِينِكَ، فَإِنِّي جَعَلْتُ لَكَ أَلْفَ سَنَةً، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَلَمَّا حَضَرَ أَجَلُ آدَمَ، قَالَ: رَبِّ أَلَيْسَ جَعَلْتَ لِي أَلْفَ سَنَةً، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَلَيْسَ قَدْ جَعَلْتَ مِنْ سِنِينِكَ أَرْبَعِينَ سَنَةً لِدَاوُدَ، فَعِنْدَ ذَلِكَ أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ وَالْبَيِّنَةِ".
انگریزی ترجمہ
Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) said regarding the verse: 'And when your Lord took from the Children of Adam, from their loins' (al-A'raf: 172) — He said: 'Allah took the covenant from all the Prophets before they were created. He took the seed-drops from Adam's loins, and Adam saw among them a shining drop and said: O my Lord, which of my sons is this? He said: This is your son Dawud. Adam asked: How long have You given him? He said: Sixty years. Adam said: That is too little. Allah said: Then give him from your years, for I have given you a thousand years. So Adam gave him forty years. When Adam's appointed time came, he said: O Lord, did You not give me a thousand years? Allah the Exalted said: Did you not give Dawud forty years from your years? Thereupon Allah the Exalted commanded that there be written records, witnesses, and evidence.'
اردو ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ﴾کے بارے میں فرمایا: اللہ عزوجل نے تمام انبیاء سے ان کی پیدائش سے پہلے ہی عہد لیا۔ فرمایا: اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کی پشت سے نطفے نکالے، تو آدم علیہ السلام نے ان میں ایک چمکدار نطفہ دیکھا، کہنے لگے: اے میرے رب! یہ میرے بیٹوں میں سے کون ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: یہ تمہارا بیٹا داؤد ہے۔ آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب! اس کے لیے کتنی عمر رکھی ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: اے رب! یہ تو تھوڑی ہے، میری عمر میں سے اسے دے دے، کیونکہ میں نے تیرے لیے ایک ہزار سال کی عمر رکھی ہے۔ تو آدم علیہ السلام نے اپنی عمر میں سے چالیس سال داؤد علیہ السلام کو عطا کر دیے۔ پھر جب آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا تو کہنے لگے: اے رب! کیا تو نے میرے لیے ایک ہزار سال کی عمر نہیں رکھی تھی؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: کیا تو نے داؤد کو اپنی عمر میں سے چالیس سال نہیں دیے تھے؟ تب اللہ عزوجل نے تحریر، گواہوں اور دلیل کا حکم جاری فرمایا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 967]
