عربی (اصل)
نَا نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَابْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ:" إِنَّ صِبْيَانَنَا هَاهُنَا يَقُولُونَ: دَارَسْتَ، وَإِنَّمَا هِيَ: دَرَسْتَ سورة الأنعام آية 105 , وَيَقْرءُونَ: حَمِئَةً , وَإِنَّمَا هِيَ: حَامِيَةً , وَيَقْرءُونَ: وَحَرَمٌ , وَإِنَّمَا هِيَ: حَرَامٌ سورة النحل آية 116 , وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسِ يُخَالِفُهُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ".
انگریزی ترجمہ
Mujahid (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'And when your Lord said to the angels: I am going to place a successor on the earth' (al-Baqarah: 30) — He said: 'The jinn used to inhabit the earth before Adam (peace be upon him), so Allah sent Iblis as a judge among them, and he was called al-Hakam among the angels.'
اردو ترجمہ
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہمارے یہاں کے بچے«دَارَسْتَ»پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں«دَرَسْتَ»ہے، اور وہ«حَمِئَةٍ»پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں«حَامِيَةً»ہے، اور وہ«وَحَرَّمَ»پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں«حَرَامٌ»ہے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان تمام قراءتوں میں ان کی مخالفت کرتے تھے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 901]
