عربی (اصل)
سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ:فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ سورة الأنعام آية 44، قَالَ:" رَخَاءُ الدُّنْيَا وَيُسْرُهَا"، حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً سورة الأنعام آية 44".
انگریزی ترجمہ
Sufyan (may Allah have mercy on him) said regarding 'When they forgot that by which they had been reminded, We opened for them the doors of every thing' (6:44): "It means the ease and abundance of this world — until when they rejoiced in what they were given, We seized them suddenly."
اردو ترجمہ
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ عزوجل کے فرمان﴿فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ﴾کا مطلب ہے دنیا کی کشادگی اور آسانی، یہاں تک کہ جب وہ دی گئی نعمتوں پر خوش ہو گئے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 878]
