عربی (اصل)
نا نا سُفْيَانُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ , قَالَ: سُئِلَ عِكْرِمَةُ، عَنْ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ , فَقَالَ:" هُنَّ أَحْرَارٌ، قِيلَ لَهُ بِأَيِّ شَيْءٍ تَقُولُهُ؟ قَالَ: بِالْقُرْآنِ، قَالُوا: بِمَاذَا مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، وَكَانَ عُمَرُ مِنْ أُولِي الأَمْرِ قَالَ: أُعْتِقَتْ وَإِنْ كَانَ سِقْطًا".
انگریزی ترجمہ
Ikrimah (may Allah have mercy on him) was asked about the mothers of children (ummahat al-awlad). He said: 'They are free.' He was asked: 'On what basis do you say this?' He said: 'Based on the Quran.' They asked: 'Which part of the Quran?' He said: 'Allah's saying: "Obey Allah, obey the Messenger, and those in authority among you" (al-Nisa: 59). And Umar was among those in authority, and he ruled that they become free—even if the child was stillborn.'
اردو ترجمہ
عکرمہ رحمہ اللہ سے«امہات الأولاد»کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: وہ آزاد ہیں۔ پوچھا گیا: آپ یہ کس بنیاد پر کہتے ہیں؟ فرمایا: قرآن کی بنیاد پر۔ کہا گیا: قرآن میں کہاں؟ فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے:﴿أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اولی الامر میں سے تھے، اور انہوں نے حکم دیا تھا کہ وہ آزاد ہیں، اگرچہ پیدا ہونے والا بچہ ساقط ہی کیوں نہ ہو۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 657]
