عربی (اصل)
نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ , عَنِ الْحَكَمَيْنِ فَغَضِبَ وَقَالَ:" مَا وُلِدْتُ إِذْ ذَاكَ"، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَعْنِي حَكَمَ شِقَاقٍ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ دَرْءٌ أَوْ تَدَارِي، بَعَثُوا حَكَمَيْنِ، فَأَقْبَلا عَلَى الَّذِي التَّدَارِي مِنْ قِبَلِهِ، فَوَعَظَاهُ وأَمَرَاهُ، فَإِنْ أَطَاعَهُمَا، وَإِلا أَقْبَلا عَلَى الآخَرِ، فَإِنْ سَمِعَ مِنْهُمَا، وَأَقْبَلَ إِلَى الَّذِي يُرِيدَانِ وَإِلا حَكَمَا بَيْنَهُمَا، فَمَا حَكَمَا مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ", قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي قَالَ لِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي: فَهُوَ جَائِزٌ.
انگریزی ترجمہ
Amr ibn Murrah (may Allah have mercy on him) said: I asked Sa'id ibn Jubayr about the two arbitrators, and he became angry and said: 'I was not yet born at that time.' I said: 'I mean the arbitrator in marital disputes.' He said: 'When there is conflict or discord between a man and his wife, two arbitrators are sent. They first approach the one from whose side the discord originates, admonish him, and instruct him. If he obeys, well and good; otherwise they approach the other. If he listens to them and agrees to what they want, fine; otherwise they rule between them, and whatever they decide is binding.' Shu'bah said: According to my knowledge, a man sitting next to me said: 'Their ruling is binding.'
اردو ترجمہ
عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے حکمین کے بارے میں پوچھا تو وہ غصے میں آ گئے اور فرمایا:”میں اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔“میں نے کہا:”میرا مطلب شقاق کے حکم سے ہے۔“تو انہوں نے فرمایا:”جب مرد اور عورت کے درمیان اختلاف یا ناراضگی ہو تو وہ دو حکم بھیجتے ہیں۔ یہ دونوں پہلے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی طرف سے ناراضگی ہو رہی ہو، پس اسے نصیحت کرتے ہیں اور اسے حکم دیتے ہیں۔ اگر وہ ان کی بات مان لے تو بہتر، ورنہ وہ دوسرے فریق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ ان کی بات سنتا ہے اور اس بات پر آمادہ ہو جاتا ہے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں، تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ دونوں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتے ہیں۔ اور جو بھی فیصلہ وہ کریں، وہ جائز ہوتا ہے۔“شُعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق میرے قریب بیٹھے ایک شخص نے کہا:”پس وہ فیصلہ جائز ہوتا ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 633]
