عربی (اصل)
نَا نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ , قَالَ: سَأَلْتُابْنَ عَبَّاسٍ،عَنِ الْكَلالَةِ؟، قَالَ:" هُوَ مَا عَدَا الْوَلَدَ، وَالْوَالِدَ"، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ؟ فَغَضِبَ , وَانْتَهَرَنِي.
انگریزی ترجمہ
Sa'id ibn Jubayr (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'But only through trade by mutual consent' (al-Nisa: 29): Trade must be based on mutual agreement between buyer and seller.
اردو ترجمہ
حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کلالہ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: وہ وارث جو اولاد اور والد کے علاوہ ہو۔ میں نے ان سے مزید وضاحت کے لیے کہا:﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ﴾؟ تو وہ ناراض ہوئے اور مجھے جھڑک دیا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 588]
