عربی (اصل)
ناأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِالأَعْمَشِ، عَنْأَبِي ظَبْيَانَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ لِي: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلا؟، قُلْنَا: قِرَاءَتَنَا، فَقَالَ: لا , بَلْ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،يُعْرَضُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، فَشَهِدَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ".
انگریزی ترجمہ
Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them both) asked: "Which of the two recitations do you consider the first?" We said: "Our recitation." He said: "No, rather it is the recitation of Ibn Mas'ud. The Quran used to be reviewed with the Messenger of Allah (peace be upon him) every Ramadan, and in the year he passed away, it was reviewed twice. Ibn Mas'ud witnessed what was abrogated and what was changed."
اردو ترجمہ
ابی ظبیان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا:”تم کس قراءت کو پہلے شمار کرتے ہو؟“ہم نے کہا:”ہماری قراءت کو۔“تو انہوں نے فرمایا:”نہیں، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کو؛ کیونکہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمپر ہر رمضان میں قرآن کا دور کیا جاتا تھا، لیکن جس سال آپصلی اللہ علیہ وسلمکا وصال ہوا، اس سال دو مرتبہ قرآن کا دور کیا گیا، چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات کے گواہ تھے کہ قرآن میں کیا منسوخ کیا گیا اور کیا بدلا گیا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 58]
