عربی (اصل)
نَا نَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِابْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180، قَالَ:" يُطَوَّقُ شُجَاعًا أَقْرَعَ بِفِيهِ زَبِيبَتَانِ يَنْقُرُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكِ؟، فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِي".
انگریزی ترجمہ
Ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) said regarding the verse: 'After any bequest or debt' (al-Nisa: 11): Debts are settled first, then bequests, then inheritance is distributed.
اردو ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾کی تفسیر میں فرمایا: وہ مال قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا، جس کے منہ کے دونوں کناروں پر زہریلے دانت ہوں گے، وہ اس کے سر کو ڈسے گا، تو وہ کہے گا: تجھ سے میرا کیا تعلق؟ تو وہ سانپ کہے گا: میں تیرا وہ مال ہوں جس پر تو بخل کرتا تھا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 549]
