عربی (اصل)
نَاأَبُو عَوَانَةَ، عَنْأَبِي بِشْرٍ، عَنْطَاوُسٍ،وَعَطَاءٍ، وَأَهْلِ الْمَدِينَةِ، أَنَّهُمْ قَالُوا:" الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ هُوَ الْوَلِيُّ"، فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ:" هُوَ الزَّوْجُ"، فَرَجَعُوا عَنْ قَوْلِهِمْ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ , قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ عَفَا الْوَلِيُّ، وَأَبَتِ الْمَرْأَةُ، مَا يَعْنِي عَفْوُ الْوَلِيِّ أَوْ عَفَتْ هِيَ، وَأَبَى الْوَلِيُّ، مَا لِلْوَلِيِّ مِنْ ذَلِكَ؟".
انگریزی ترجمہ
Tawus, Ata, and the people of Madinah (may Allah have mercy on them) said: 'The one in whose hand is the marriage tie' is the guardian. When they were informed of Sa'id ibn Jubayr's view that it is the husband, they retracted. When Sa'id ibn Jubayr came, he said: Consider — if the guardian pardons but the woman refuses, what does the guardian's pardon mean? Or if she pardons but the guardian refuses, what right does the guardian have in this?
اردو ترجمہ
طاؤس رحمہ اللہ، عطاء رحمہ اللہ اور اہل مدینہ نے فرمایا:”جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، وہ ولی ہے۔“جب انہیں سعید بن جبیر رحمہ اللہ کا قول بتایا گیا کہ”یہ زوج ہے“تو وہ اپنے قول سے رجوع کر گئے۔ پھر جب سعید بن جبیر رحمہ اللہ تشریف لائے تو فرمایا:”اگر ولی معاف کر دے اور عورت انکار کر دے، تو ولی کی معافی کا کیا مطلب؟ یا اگر عورت معاف کر دے اور ولی انکار کر دے، تو ولی کو اس کا کیا حق حاصل ہے؟“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 388]
