عربی (اصل)
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ قُرْطٍ الأَزْدِيَّ، قَالَ:" أَزْحَفَ عَلَى بَكْرٍ لِي، وَأَنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَسَبَقَنِي الْجَيْشُ، فَأَرَدْتُ تَرْكَهُ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُقِيمَهُ، فَقَامَ فَلَمْ أَزَلْ أَتَّبِعِ الأَثَرَ حَتَّى لَحِقْتُهُمْ وَهُمْ يُقَاتِلُونَ الرُّومَ فِي شَرَفٍ، وَنِسَاءُ خَالِدٍ وَنِسَاءُ أَصْحَابِهِ مُشَمِّرَاتٍ يَحْمِلْنَ الْمَاءَ لِلْمُهَاجِرِينَ وَيَرْتَجِزْنَ".
انگریزی ترجمہ
'Umar (may Allah be pleased with him) founded the cities of Kufa and Basra as garrison towns for the Muslim armies.
اردو ترجمہ
حضرت شریح بن عبید رحمہ اللہ سے روایت ہے: عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نے کہا:”میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔“میرا اونٹ پیچھے رہ گیا۔ میں نے اللہ سے دعا کی۔ اللہ نے اونٹ کھڑا کر دیا۔ میں لشکر کے نشانوں پر چلتے ہوئے پہنچا۔ وہ رومیوں سے لڑ رہے تھے۔ اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کی خواتین پانی لا رہی تھیں اور نعرے لگا رہی تھیں۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4096]
