عربی (اصل)
ناأَبُو شِهَابٍ، عَنْحُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْأَنَسٍ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةَ بْنَ بَدْرٍ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ، وَأَعْطَى الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ نَاسٌ مِنَ الأَنْصَارِ: تُعْطَى غَنَائِمُنَا أَقْوَامًا تَقْطُرُ دِمَاؤُهُمْ مِنْ سُيُوفِنَا، أَوْ دِمَاؤُنَا مِنْ سُيُوفِهِمْ، فَاجْتَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الأَنْصَارِ، فَقَالَ:" هَلْ فِيكُمْ إِلا مِنْكُمْ؟" فَقَالُوا: لا , إِلا فُلانُ ابْنُ أُخْتِنَا، فَقَالَ:" إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ"، ثُمَّ قَالَ:" أَمَا تَرْضَوْنَ يَا مَعَاشِرَ الأَنْصَارِ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ أَنْتُمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى دِيَارِكُمْ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ:"لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا، وَأَخَذَتِ الأَنْصَارُ شِعْبًا لأَخَذْتُ شِعْبَ الأَنْصَارِ، الأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، وَلَوْلا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الأَنْصَارِ".
انگریزی ترجمہ
'Umar (may Allah be pleased with him) allocated stipends from the bayt al-mal (treasury) for the soldiers and their families.
اردو ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے غزوہ حنین کے مال غنیمت میں سے سیدنا عیینہ بن بدر اور سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما کو سو اونٹ دیے۔ کچھ انصار نے کہا:”ہماری غنیمت ان لوگوں کو دی جا رہی ہے جن کے خون ابھی ہماری تلواروں سے ٹپک رہے تھے یا ہمارے خون ان کی تلواروں سے۔“تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے انصار کو بلایا۔ فرمایا:”کیا تم میں سے کوئی غیر موجود ہے؟“کہنے لگے:”نہیں، سوائے ہمارے فلاں بھانجے کے۔“فرمایا:”بھانجے بھی قوم میں سے ہوتے ہیں۔“پھر فرمایا:”اے انصار کے گروہ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے جائیں اور تم محمدصلی اللہ علیہ وسلمکو اپنے گھروں میں لے جاؤ؟“سب نے کہا:”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“آپ نے فرمایا:”اگر لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار کسی گھاٹی میں تو میں انصار کی گھاٹی اختیار کروں گا۔“انصار میرے جسم و جان کا حصہ ہیں۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی میں سے ہوتا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4076]
