عربی (اصل)
نا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" اشْحَذْ سَيْفَكَ" , فَقِيلَ لَهُ: وَمَا ذَاكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ! قَالَ:" قَدْ قُذِفَ فِي قُلُوبِكُمُ الْوَهْنُ، وَنَزَعَ مِنْ قُلُوبِ عَدُوِّكُمُ الرُّعْبَ". قَالُوا: وَبِمَ ذَاكَ قَالَ:" بِحُبِّكُمُ الدُّنْيَا وَكَرَاهِيَتِكُمُ الْمَوْتَ، وَطُوبَى لِمَنْ خَرَسَ لِسَانُهُ، وَبَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ، وَوَسِعَهُ بَيْتُهُ".
انگریزی ترجمہ
'Umar (may Allah be pleased with him) ruled that a dhimmi who betrayed the Muslims could be executed.
اردو ترجمہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: انہوں نے کہا:”اپنی تلوار کو تیز کرو۔“پوچھا گیا: کیوں اے ابو عبداللہ؟ فرمایا:”تمہارے دلوں میں بزدلی ڈال دی گئی ہے اور تمہارے دشمنوں کے دلوں سے خوف نکال لیا گیا ہے۔“کہا: وہ کیوں؟ فرمایا:”دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے۔“خوشخبری ہے اس کے لیے جس کی زبان خاموش ہو، اپنی خطاؤں پر روئے اور جسے اس کا گھر کافی ہو۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 4073]
