عربی (اصل)
ناصَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ناشَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا ظَهَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ حُنَيْنٍ سَأَلَهُ النَّاسُ وَازْدَحَمُوا عَلَيْهِ حَتَّى أَلْجَوْهُ إِلَى شَجَرَةٍ عَلِقَتْ رِدَاءَهُ، فَقَالَ:" عَلامَ تَضْطَرُّونِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ؟ حَتَّى عَلِقَتْ رِدَائِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ كَانَ هَذَا الْوَادِي نَعَمًا كُلَّهُ لَقَسَمْتُهُ فِيكُمْ".
انگریزی ترجمہ
Ibn 'Abbas (may Allah be pleased with them both) said: "The Messenger of Allah (peace be upon him) gave the horseman three shares — one for himself and two for his horse."
اردو ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلماہلِ حنین پر غالب آئے، تو لوگ آپصلی اللہ علیہ وسلمسے مال مانگنے لگے اور اس قدر ہجوم کیا کہ ایک درخت تک آپصلی اللہ علیہ وسلمکو دھکیل دیا، جس پر آپصلی اللہ علیہ وسلمکی چادر لٹک گئی، تو آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تم مجھے اس درخت کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدصلی اللہ علیہ وسلمکی جان ہے، اگر یہ وادی سارا مال و دولت ہوتا تو میں تم میں تقسیم کر دیتا۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3932]
