عربی (اصل)
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،" أَنَّعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ،دَخَلَ مِصْرَ وَمَعَهُ ثَلاثَةُ آلافٍ وَخَمْسُ مِائَةٍ، وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَشْفَقَ عَلَيْهِ لَمَّا أَخْبَرَهُ، فَأَرْسَلَ الزُّبَيْرَ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا فَأَدْرَكَهُ، فَشَهِدَ الزُّبَيْرُ فَتْحَ مِصْرَ، فَاخْتَطَّ الزُّبَيْرُ بِالْفُسْطَاطِ".
انگریزی ترجمہ
'Amr ibn al-'As (may Allah be pleased with him) entered Egypt with 3,500 troops. When 'Umar heard this and feared for him, he sent al-Zubayr with 12,000 men. Al-Zubayr joined him and participated in the conquest of Egypt. Al-Zubayr then established his plot in Fustat.
اردو ترجمہ
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مصر میں تین ہزار پانچ سو افراد کے ساتھ داخل ہوئے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو جب یہ اطلاع ملی تو انہیں خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بارہ ہزار افراد کے ساتھ بھیجا، جنہوں نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے جا ملنے کے بعد فتح مصر میں شرکت کی۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فسطاط میں اپنا حصہ مقرر کرایا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3768]
