عربی (اصل)
نا صَالِحُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: نا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ:" غَزَوْنَا خُرَاسَانَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَإِنَّا لَمُحَاصِرُونَ حِصْنًا مِنْ حُصُونِ حَارِزْمَ، وَأَقَمْنَا سَنَتَيْنِ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَمَا نَصُوصُ الْفَرِيضَةَ، وَمَعَنَا مِعْضَدٌ الْعِجْلِيُّ وَاقِفٌ عَلَيْهِ قَبَاءٌ لَهُ أَبْيَضُ، فَقَالَ:مَا أَحْسَنَ أَثَرَ الدَّمِ فِي هَذَا الْقَبَاءِ، فَمَا كَانَتْ مَقَالَتُهُ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ رُمِينَا بِالْمَنْجَنِيقِ مِنَ الْحِصْنِ، فَانْكَسَرَ مِنْهُ ثَلاثُ فِرَقٍ، فَأَصَابَتْهُ فِرْقَةٌ مِنْهُ، فَجَعَلَ يَمَسُّهَا، وَيَقُولُ:" إِنَّهَا لَصَغِيرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيَجْعَلُ فِي الصَّغِيرَةِ خَيْرًا كَثِيرًا"، فَانْصَرَفْنَا بِهِ، فَمَاتَ، فَكَانَ عَلْقَمَةُ يَلْبَسُ ذَلِكَ الْقَبَاءَ بِالْكُوفَةِ، وَقَدْ غَسَلَ عَنْهُ أَثَرَ الدَّمِ، وَقَدْ بَقِيَ أَثَرُهُ، وَيَقُولُ: إِنَّهُ لَيُحَبِّبُ إِلَيَّ لَبُوسَ هَذَا الْقَبَاءِ تَذَكُّرِي دَمَ مِعْضَدٍ فِيهِ.
انگریزی ترجمہ
'Alqamah reported: "We went on jihad in Khurasan during the time of Mu'awiyah. We besieged a fortress of Kharizm for two years, shortening our prayers to two rak'ahs without diminishing the obligatory prayer. Mi'dad al-'Ijli was standing wearing a white cloak and said: 'How beautiful the trace of blood would look on this cloak!' Immediately, we were struck by a catapult from the fortress. One piece struck Mi'dad. He touched the wound and said: 'It is small, and Allah places much good in small things.' We carried him away, and he died. 'Alqamah used to wear that cloak in Kufah after washing the blood — though its trace remained — and would say: 'I love wearing this cloak because it reminds me of Mi'dad's blood.'"
اردو ترجمہ
سیدنا علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے خراسان میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جہاد کیا، ہم حارزم کے ایک قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، دو سال تک ہم نے قصر (قصر نماز) کے ساتھ دو رکعتیں ادا کیں اور فرض میں کوئی کمی نہیں کی۔ ہمارے ساتھ معضد عجلی بھی تھا جو ایک سفید قباء پہنے ہوئے کھڑا تھا، اس نے کہا:”اس قباء پر خون کا نشان کتنا اچھا لگے گا۔“اتنا کہنا تھا کہ قلعے سے منجنیق سے تین پتھر پھینکے گئے، ایک اس کو آ لگا۔ اس نے زخم پر ہاتھ پھیرا اور کہا:”یہ تو چھوٹا ہے، اللہ چھوٹی چیز میں بھی خیر پیدا کر دیتا ہے۔“ہم اسے اٹھا کر لائے اور وہ فوت ہو گیا۔ علقمہ کوفہ میں اس قباء کو پہنا کرتے تھے جس میں خون کا نشان دھو کر بھی باقی رہ گیا تھا، اور کہتے تھے:”مجھے یہ قباء پہنے رہنا اس لیے پسند ہے کہ اس سے معضد کا خون یاد آتا ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3758]
