عربی (اصل)
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ أَهْلِ الشَّامِ عَلَىعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِفَسَأَلَهُمْ، فَقَالَ:"كَيْفَ تَجْعَلُونَ نَفَقَاتِكُمْ؟" قَالُوا: بِسَبْعِ مِائَةٍ، قَالَ:" كَذَلِكَ فَافْعَلُوا، وَإِذَا أَصَابَ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَحْتَسِبْ وَلَدًا ذَكَرًا، مُصِيبًا أَوْ مُخْطِئًا، أَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ أَوْ مَنَعَهُ".
انگریزی ترجمہ
'Umar (may Allah be pleased with him) asked a delegation from Syria: "How do you manage your expenses?" They said: "With seven hundred dirhams." He said: "Spend in the cause of Allah and do not fear poverty from the Lord of the Throne."
اردو ترجمہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اہل شام کے وفد سے پوچھا:”تم اپنے اخراجات کیسے کرتے ہو؟“انہوں نے کہا:”سات سو درہم میں۔“تو فرمایا:”ایسے ہی کرو، اور جب تم بیوی کے پاس جاؤ تو نیت کرو کہ لڑکا پیدا ہو، چاہے ہو یا نہ ہو۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3580]
