عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَادَاوُدُ، عَنِالشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ عَلَى الصَّفَا وَثَنٌ يُقَالُ لَهُ: إِسَافٌ، وَعَلَى الْمَرْوَةِ وَثَنٌ يُقَالُ لَهُ: نَائِلَةُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّأَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّمَا كَانُوا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِلْوَثَنَيْنِ اللَّذَيْنِ عَلَيْهِمَا، وَإِنَّهُمَا لَيْسَا مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ، فَنَزَلَتْ:" إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158".
انگریزی ترجمہ
'Ali (may Allah be pleased with him) said: "The Quran contains abrogating and abrogated, lawful and unlawful, clear and allegorical, general and specific."
اردو ترجمہ
شعبی رحمہ اللہ نے کہا کہ صفا پہاڑی پر ایک بت تھا جسے اساف کہا جاتا تھا اور مروہ پہاڑی پر ایک بت تھا جسے نائلہ کہا جاتا تھا، پس جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتشریف لائے تو لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! اہل جاہلیت ان دونوں بتوں کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان طواف کیا کرتے تھے اور یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے نہیں ہیں، تب یہ آیت نازل ہوئی:﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا﴾”بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان کے درمیان سعی کرے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 234]
