عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَاسُفْيَانُ، وَتَلا هَذِهِ الآيَةَ:" وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا سورة البقرة آية 127،" سَأَلا الْقَبُولَ، وَتَخَوَّفَا أَنْ يَكُونَ مِنْهُ شَيْءٌ لا يُتَقَبَّلُ مِنْهُمَا".
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The best verse in the Book of Allah is Ayat al-Kursi."
اردو ترجمہ
ہم سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث سنائی، اور انہوں نے یہ آیت تلاوت کی:«وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا»اور جب ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے (تو دعا کر رہے تھے): اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما۔”) سفیان نے کہا:«سَأَلَا الْقَبُولَ، وَتَخَوَّفَا أَنْ يَكُونَ مِنْهُ شَيْءٌ لَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُمَا»انہوں نے قبولیت کی دعا مانگی اور ڈرتے رہے کہ کہیں ان کے اس عمل میں کوئی ایسی چیز نہ ہو جس کی وجہ سے یہ عمل ان سے قبول نہ کیا جائے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 219]
