عربی (اصل)
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبِيدَةَ، قَالَ: خَطَبَعَلِيٌّالنَّاسَ، فَقَالَ:" شَاوَرَنِيعُمَرُعَنْ أُمَّهَاتِ الأَوْلادِ، فَرَأَيْتُ أَنَا وَعُمَرُ أَنْ أُعْتِقَهُنَّ، فَقَضَى بِهَا عُمَرُ حَيَاتَهُ، وَعُثْمَانُ حَيَاتَهُ، فَلَمَّا وُلِّيتُ رَأَيْتُ أَنَّ أُرِقَّهُنَّ". قَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُ عُمَرَ وَعَلِيٍّ فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ رَأْيِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ.
انگریزی ترجمہ
Ali addressed the people saying: "Umar consulted me about the mothers of children, and we both agreed to free them. Umar upheld this ruling during his lifetime, and Uthman during his lifetime. But when I became caliph, I considered returning them to slavery." Ubayda said: "The opinion of Umar and Ali in consensus is dearer to us than the opinion of Ali alone."
اردو ترجمہ
حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:”عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے امہات الاولاد کے بارے میں مشورہ کیا تھا، تو میرا اور عمر کا فیصلہ تھا کہ انہیں آزاد کیا جائے، چنانچہ عمر نے اپنی زندگی میں یہی فیصلہ نافذ کیا، اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی زندگی میں اسی پر عمل کیا، لیکن جب مجھے خلافت ملی تو میں نے رائے بدلی اور چاہا کہ انہیں دوبارہ غلام بنا دوں۔“عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا:”ہمیں عمر اور علی رضی اللہ عنہما کی جماعت کی رائے علیحدہ علی رضی اللہ عنہ کی انفرادی رائے سے زیادہ محبوب ہے۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3224]
