عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَاالْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ الأَصَمُّ، قَالَ: سَمِعْتُالسُّدِّيَّ، يَقُولُ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:" فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 37، قَالَ:" رَبِّ خَلَقْتَنِي بِيَدِكَ، وَنَفَخْتَ فِيَّ مِنْ رُوحِكَ، فَسَبَقَتْ رَحْمَتُكَ غَضَبَكَ، أَرَأَيْتَ إِنْ تُبْتُ وَأَصْلَحْتُ، هَلْ أَنْتَ رَادُّنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟، قَالَ: قِيلَ: نَعَمْ".
انگریزی ترجمہ
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "The house in which the Quran is recited becomes spacious for its inhabitants, its goodness increases, the angels are present, and the devils leave. And the house in which the Quran is not recited becomes constricted for its inhabitants, its goodness decreases, the angels leave, and the devils are present."
اردو ترجمہ
حسن بن یزید اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سدی رحمہ اللہ کو اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہوئے سنا:﴿فَتَلَقَّىٰ آدمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾(پھر آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھے، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی، بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے)۔ سدی رحمہ اللہ نے فرمایا: آدم علیہ السلام نے عرض کیا:”اے رب! تو نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور اپنی روح میں سے مجھ میں پھونکا، اور تیری رحمت تیرے غضب پر سبقت لے گئی۔ اگر میں توبہ کروں اور اپنی اصلاح کر لوں، تو کیا تو مجھے جنت میں واپس لوٹا دے گا؟“تو کہا گیا:”ہاں۔“[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 186]
