عربی (اصل)
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَأنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعُبَيْدَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ أَمَةٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأُعْتِقَتْ فِي الْعِدَّةِ، فَعِدَّتُهَا عِدَّةُ حُرَّةٍ وَلَهُ عَلَيْهَا رَجْعَةٌ، وَإِنْ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ فَأُعْتِقَتْ فِي الْعِدَّةِ، فَعِدَّتُهَا عِدَّةَ الأَمَةِ وَلا رَجْعَةَ لَهُ عَلَيْهَا".
انگریزی ترجمہ
Al-Hasan al-Basri, Ibrahim al-Nakha'i, and al-Sha'bi said: "If a slave-woman is divorced with one divorce and then freed during the waiting period, her waiting period becomes that of a free woman, and the husband has the right to take her back. But if she was divorced twice and then freed during the waiting period, her waiting period is that of a slave-woman, and the husband has no right to take her back."
اردو ترجمہ
حضرت حسن بصری، ابراہیم نخعی، اور شعبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں: اگر کسی باندی کو ایک طلاق دی جائے اور وہ عدت میں آزاد ہو جائے تو اس کی عدت آزاد عورت کی ہوگی اور شوہر کو رجوع کا حق ہوگا۔ لیکن اگر دو طلاقوں کے بعد آزاد ہو تو عدت باندی کی ہوگی اور رجوع کا حق نہیں ہوگا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2444]
