عربی (اصل)
نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ أَبِي الأَشْرَسِ، عَنْ مُغِيثِ بْنِ سُمَيٍّ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:طُوبَى لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ سورة الرعد آية 29 , قَالَ:" شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ دَارٍ إِلا يُظِلُّهُمْ غُصْنٌ مِنْ أَغْصَانِهَا، فِيهَا مِنْ أَلْوَانِ الثَّمَرِ وَيَقَعُ عَلَيْهَا طَيْرٌ أَمْثَالُ الْبُخْتِ، فَإِذَا اشْتَهَى الرَّجُلُ طَائِرًا دَعَاهُ حَتَّى يَقَعَ عَلَى خِوَانِهِ، فَيَأْكُلُ مِنْ أَحَدِ جَانِبَيْهِ شِوَاءً، وَالآخَرِ قَدِيدًا، ثُمَّ يَطِيرُ فَيَذْهَبُ".
انگریزی ترجمہ
Mujahid (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'Racing ahead, their heads raised up, their glance does not come back to them, and their hearts are void' (Ibrahim: 43) — He said: 'They are looking but do not see anything because of the terror.'
اردو ترجمہ
مغیث بن سمی رحمہ اللہ نے فرمایا:﴿طُوبَىٰ لَهُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ﴾یعنی جنت میں ایک درخت ہے جس کی ہر شاخ ہر گھر والے پر سایہ کرے گی، اس میں ہر قسم کا پھل ہوگا، اور اس پر اونٹوں جیسے پرندے ہوں گے، جب کوئی جنتی کسی پرندے کو کھانا چاہے گا تو وہ اس کے دسترخوان پر آ بیٹھے گا، ایک جانب سے بھنا ہوا ہوگا اور دوسری جانب سے خشک گوشت ہوگا، پھر وہ پرندہ دوبارہ اڑ جائے گا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1170]
