عربی (اصل)
نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ سورة الرعد آية 8 , قَالَ:" إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى وَلَدِهَا كَانَ نُقْصَانًا فِي الْوَلَدِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى التِّسْعَةِ أَشْهُرٍ كَانَ تَمَامًا لَمَّا نَقَصَ مِنْهَا".
انگریزی ترجمہ
Sa'id ibn Jubayr (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'But as for the foam, it vanishes, being cast off; and as for that which benefits the people, it remains on the earth' (al-Ra'd: 17) — He said: 'The foam, like falsehood, perishes, and the truth remains beneficial like water and metals.'
اردو ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا:﴿وَمَا تَغِيضُ الْأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ﴾یعنی اگر عورت حمل کے دوران حائضہ ہو تو وہ ولادت میں کمی ہے، اور نو ماہ سے زیادہ ہو تو اس کمی کا تدارک ہے۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1155]
