عربی (اصل)
نَا نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَعَبْدُ اللَّهِ:" قَرَأْتُ سُورَةَ يُوسُفَ بِحِمْصَ، فَقَالَ رَجُلٌ: مَا هَكَذَا أُنْزِلَتْ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ، فَوَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتُكَذِّبُ بِالْحَقِّ، وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ؟ وَاللَّهِ لَهَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ لا أَدَعُكَ حَتَّى أَضْرِبَكَ حَدًّا، قَالَ: فَضَرَبَهُ الْحَدَّ".
انگریزی ترجمہ
Mujahid (may Allah have mercy on him) said regarding the verse: 'For Him is the supplication of truth' (al-Ra'd: 14) — He said: 'The supplication of truth is sincerity in monotheism (tawhid).'
اردو ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حمص میں سورہ یوسف کی تلاوت کی، تو ایک آدمی نے کہا: یہ قرآن اس طرح نازل نہیں ہوا، میں اس کے قریب ہوا تو اس سے شراب کی بدبو محسوس کی، میں نے کہا: تو حق کا انکار کرتا ہے اور شراب پیتا ہے؟ اللہ کی قسم! مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے اسی طرح پڑھایا ہے، اللہ کی قسم! میں تجھے حد لگا کر چھوڑوں گا، چنانچہ اس پر حد جاری کی گئی۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1152]
