عربی (اصل)
نَا نَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَىابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:إِنَّ أَبِي مَاتَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ لَهُ:" اغْسِلْهُ، وَكَفِّنْهُ وَحَنِّطْهُ، ثُمَّ ادْفِنْهُ، ثُمَّ قَالَ هَذِهِ الآيَةَ: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ {113} وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأَبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ سورة التوبة آية 113-114 , قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَلَى كُفْرِهِ تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ، فَتَبَرَّأَ مِنْهُ".
انگریزی ترجمہ
Sa'id ibn Jubayr (may Allah have mercy on him) narrated: A man came to Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) and said: My father died as a Christian. Ibn Abbas told him: 'Wash him, shroud him, perfume him, then bury him.' Then he recited the verse: 'It is not for the Prophet and those who have believed to ask forgiveness for the polytheists, even if they were relatives, after it has become clear to them that they are companions of Hellfire. And the request of forgiveness of Abraham for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became apparent to Abraham that his father was an enemy to Allah, he disassociated himself from him' (al-Tawbah: 113-114). He said: When he died upon his disbelief, it became clear to him that he was an enemy of Allah, so he disassociated himself from him.
اردو ترجمہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا والد نصرانی حالت میں فوت ہو گیا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے غسل دو، کفن دو اور خوشبو لگاؤ، پھر اسے دفن کر دو، پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ آیت تلاوت فرمائی﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ * وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ﴾یعنی نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، اگرچہ وہ قریبی رشتہ دار ہی ہوں، اس کے بعد کہ ان پر واضح ہو گیا کہ وہ دوزخی ہیں، اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے، پھر جب ان پر واضح ہو گیا کہ وہ اللہ عزوجل کا دشمن ہے تو ابراہیم علیہ السلام اس سے بیزار ہو گئے، پھر فرمایا: جب وہ کفر پر مر گیا تو ابراہیم علیہ السلام پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ عزوجل کا دشمن ہے، تو ابراہیم علیہ السلام نے اس سے براءت اختیار کی۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1037]
