عربی (اصل)
نَاسُفْيَانُ، عَنِابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْمُجَاهِدٍ، قَالَ:لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى تَبُوكَ، قَالَ:" لا يَخْرُجَنَّ مَعَنَا إِلا مُقْوٍ"، فَخَرَجَ رَجُلٌ عَلَى بَكْرٍ لَهُ صَعْبٌ فَوُقِصَ بِهِ، فَمَاتَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: الشَّهِيدُ الشَّهِيدُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالا يُنَادِي فِي النَّاسِ: أَنَّهُ لا يَدْخُلُ الْجَنَّةُ إِلا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلا يَدْخُلُهَا عَاصٍ"، قَالَ مُجَاهِدٌ: مَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا أَشَدَّ مِنْ هَذَا، وَمِنْ حَدِيثِهِ: لَقَدْ ضُمَّ سَعْدٌ ضَمَّةً.
انگریزی ترجمہ
Mujahid (may Allah have mercy on him) said: 'When the Messenger of Allah (peace be upon him) set out for Tabuk, he said: No one should come with us unless he is well-equipped. A man came out on a wild young camel, and it threw him and he died. The people began saying: The martyr! The martyr! So the Messenger of Allah (peace be upon him) ordered Bilal to announce among the people that no soul shall enter Paradise except a believing one, and no disobedient person shall enter it.' Mujahid said: 'We never heard a statement from the Prophet (peace be upon him) harsher than this, and another hadith of his: "Indeed, Sa'd was given a squeeze (in the grave)."'
اردو ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: جب رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمتبوک کی طرف نکلے تو فرمایا: ہمارے ساتھ وہی شخص نکلے جو صاحبِ قوت ہو، تو ایک شخص اپنے ایک سخت مزاج اونٹ پر سوار ہو کر نکلا، تو وہ اونٹ اس کے ساتھ گر پڑا اور وہ مر گیا، تو لوگ کہنے لگے: شہید، شہید، پس رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمنے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں میں اعلان کریں کہ«لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَدْخُلُهَا عَاصٍ»، یعنی جنت میں صرف مؤمن جان ہی داخل ہوگی، اور گناہگار داخل نہیں ہوگا، مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: ہم نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف سے اس سے زیادہ سخت کوئی بات نہیں سنی، اور آپصلی اللہ علیہ وسلمکی ایک اور حدیث یہ ہے:«لَقَدْ ضُمَّ سَعْدٌ ضَمَّةً»، یعنی سعد کو قبر میں ایک سخت دباؤ دیا گیا تھا۔[سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1032]
