عربی (اصل)
وعن ثابت عن أنس، رضي الله عنه قال: أتى على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا ألعب مع الغلمان، فسلم علينا، فبعثنى في حاجةٍ، فأبطأت على أمي. فلما جئت قالت: ما حبسك؟ فقلت: بعثنى رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجة، قالت: ما حاجته؟ قلت: إنها سر.قالت: لا تخبرن بسر رسول الله صلى الله عليه وسلم أحداً. قال أنس: والله لو حدثت به أحداً لحدثتك به يا ثابت. ((رواه مسلم، وروى البخارى بعضه مختصراً)).
انگریزی ترجمہ
Thabit (may Allah be well pleased with him) reported:Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said: Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came to me while I was playing with the boys. He greeted us and sent me on an errand. This delayed my return to my mother. When I came to her, she asked, "What detained you?" I said; "Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) sent me on an errand." She asked, "What was it?" I said, "It is a secret." My mother said; "Do not disclose to anyone the secret of Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)." Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said to Thabit (may Allah be well pleased with him): By Allah, were I to tell it to anyone I would have told you..
اردو ترجمہ
ثابت سے روایت ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سلام فرمایا اور مجھے ایک کام پر بھیجا۔ مجھے اپنی والدہ کے پاس واپس آنے میں دیر ہو گئی۔ جب میں آیا تو انہوں نے پوچھا: کس چیز نے تمہیں روکا؟ میں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک کام پر بھیجا تھا۔ انہوں نے پوچھا: کیا کام تھا؟ میں نے کہا: وہ تو راز ہے۔ میری والدہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا راز کسی کو نہ بتانا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (ثابت سے) فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں یہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں ضرور بتاتا، اے ثابت! (مسلم، اور بخاری نے اس کا کچھ حصہ مختصراً روایت کیا)
