عربی (اصل)
وعن عمرو بن تغلب - بفتح التاء المثناة فوق وإسكان الغين المعجمة وكسر اللام - رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتي بمال أو سبي فقسمه، فأعطى رجالا، وترك رجالا، فبلغه أن الذين ترك عتبوا ؛فحمد الله ثم أثنى عليه ثم قال، أما بعد فوالله إني لأعطي الرجل وأدع الرجل والذي أدع أحب إلي من الذي أعطي، ولكني إنما أعطي أقواماً لما أرى في قلوبهم من الجزع والهلع، وأكل أقواماً إلى ما جعل الله في قلوبهم من الغنى والخير، منهم عمرو بن تغلب” قال عمرو بن تغلب: فوالله ما أحب أن لي بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حمر النعم ((رواه البخاري)). "الهلع": هو أشد الجزع، وقيل: الضجر.
انگریزی ترجمہ
'Amr bin Taghlib (may Allah be well pleased with him) reported:Some booty or prisoners of war were brought to Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he distributed them, giving some men and neglecting others. Then, he was informed that those whom he had not given a thing were displeased. On this the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) praised Allah and glorified Him and said, "It is a fact that I give to one and overlook another. The one I ignore is dearer to me than the one I give. I give to those in whose hearts I perceive anxiety; others I leave with the richness and contentment that Allah has put in their hearts. One of them is 'Amr bin Taghlib." Upon this 'Amr bin Taghlib said, "By Allah I shall not accept a herd of red camels in exchange for what the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated (about me).".
اردو ترجمہ
حضرت عمرو بن تغلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مال یا قیدی آئے تو آپ نے تقسیم فرمایا۔ کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو چھوڑ دیا۔ آپ کو معلوم ہوا کہ جنہیں نہیں دیا وہ ناراض ہوئے ہیں۔ آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: "بعد ازاں! واللہ! میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور ایک کو چھوڑ دیتا ہوں، اور جسے چھوڑتا ہوں وہ مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے جسے دیتا ہوں۔ لیکن میں ان لوگوں کو دیتا ہوں جن کے دلوں میں مجھے گھبراہٹ اور بے صبری نظر آتی ہے، اور کچھ لوگوں کو اس غنا اور خیر پر چھوڑ دیتا ہوں جو اللہ نے ان کے دلوں میں رکھی ہے۔ انہی میں عمرو بن تغلب بھی ہیں۔" حضرت عمرو بن تغلب فرماتے ہیں: واللہ! رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے یہ الفاظ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ (رواہ البخاری)
