عربی (اصل)
الثاني: عن أبي نجيح العرباض بن سارية رضي الله عنه قال: "وعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم موعظة بليغة وجلت منها القلوب وذرفت منها العيون، فقلنا: يا رسول الله كأنها موعظة مودع فأوصنا. قال: "أوصيكم بتقوى الله ، والسمع والطاعة وإن تأمر عليكم عبد حبشي، وإنه من يعش منكم فسيرى اختلافاً كثيراً. فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين، عضوا عليها بالنواجذ، وإياكم ومحدثات الأمور فإن كل بدعة ضلالة" ((رواه أبو داود، والترمذي وقال : حديث حسن صحيح)).
انگریزی ترجمہ
'Irbad bin Sariyah (may Allah be well pleased with him) reported that one day Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) delivered us a very eloquent Khutbah on account of which eyes shed tears and hearts were full of tears. A man said: "O Prophet of Allah, this is as if it were a parting advice. So advise us". He (blessings and peace of Allah be upon him) said, "I admonish you to fear Allah, to listen and obey even if an Abyssinian slave is appointed as your leader. Because whosoever among you shall live after me, will see much discord. So hold fast to my Sunnah and the examples of the Rightly- Guided Caliphs who will come after me. Adhere to them and hold to it fast. Beware of new things (in Deen) because every Bid'ah is a misguidance"..
اردو ترجمہ
حضرت ابو نجیح عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک بلیغ نصیحت فرمائی جس سے دل کانپ گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو الوداع کرنے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے، ہمیں وصیت فرمائیں۔ ارشاد فرمایا: میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور سننے اور ماننے کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام بھی امیر بنا دیا جائے۔ تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ تم پر میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور اپنی ڈاڑھوں سے پکڑ لو۔ نئے نئے کاموں سے بچو کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ (رواہ ابو داؤد والترمذی وقال حدیث حسن صحیح)
