عربی (اصل)
الثامن: عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم خيبر: "لأعطين هذه الراية رجلا يحب الله ورسوله، يفتح الله على يديه" قال عمر رضي الله عنه: ما أحببت الإمارة إلا يؤمئذ، فتساورت لها رجاء أن أدعى لها، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليّ بن أبي طالب رضي الله عنه فأعطاه إياها وقال: " أمش ولا تلتفت حتى يفتح الله عليك" فسار علي شيئاً، ثم وقف ولم يلتفت، فصرخ: يا رسول الله، على ماذا أقاتل الناس؟ قال: " قاتلهم حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله، وأن محمداً رسول الله، فإذا فعلوا ذلك فقد منعوا منك دماءهم وأموالهم إلا بحقها، وحسابهم على الله" ((رواه مسلم)): (14)
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) reported:On the day of the battle of Khaibar, Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "I shall hand over this banner to one who loves Allah and His Messenger, and Allah will give us victory through him." 'Umar (may Allah be well pleased with him) said: "I had never longed for leadership but that day I expected that I might be called for. However, Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) called Hadrat 'Ali bin Abu Talib (may Allah be well pleased with him) and handed the banner to him and said, "Go forth and do not turn around till Allah bestows victory upon you". (On hearing this) 'Ali proceeded a little and then halted and without turning around inquired in a loud voice: "O Beloved Messenger of Allah, for what shall I fight them?" He (blessings and peace of Allah be upon him) replied, "Go on fighting till they affirm that none has the right to be worshiped but Allah and that Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) is the Beloved Messenger of Allah. If they admit that, their lives and their properties will be secured, subject to their obligations according to Islam, and they will be answerable to Allah"..
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن ارشاد فرمایا: یہ جھنڈا میں اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: مجھے اس دن کے سوا کبھی سرداری کی محبت نہیں ہوئی۔ میں نے اس امید سے سینہ تان کر کھڑا ہوا کہ شاید مجھے بلایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو بلایا اور جھنڈا عطا فرمایا اور فرمایا: چلے جاؤ اور پیچھے مت دیکھو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا فرمائے۔ حضرت علی کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کچھ آگے بڑھے پھر رکے اور بغیر پیچھے دیکھے بلند آواز سے فرمایا: یا رسول اللہ! میں لوگوں سے کس بات پر لڑوں؟ آپ نے فرمایا: ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ ایسا کریں تو انہوں نے تم سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے مگر اسلام کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ (رواہ مسلم)
