عربی (اصل)
:عَنْ أَبي هُرَيْرَةَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ، صَلَّى الله عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ ، قَالَ . قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائي ، أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ ، وإِذا كَرِهَ لِقَائي ، كَرِهْتُ لِقَاءَهُ .رواه البخاري و مالك و في رواية مسلم ، توضح معنى الحديث : : عَنْ عَائِشَةَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، أَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ ، وَ مَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللهِ ، كَرِهَ اللهُ لِقَاءَهُ . فَقُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، أَكَراهِيةَ المَوْتِ ؟ فَكُلُّنَا نَكْرَهُ المَوْتَ . قَالَ لَيْسَ كَذَلِكَ ، وَلَكِنَّ المُؤْمِنَ إذا بُشِّرَ بِرَحْمةِ اللهِ وَ رِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ ، أَحَبَّ لِقَاءَ اللهِ ، فَأَحَبَّ اللهُ لِقَاءَهُ ، وَإِنَّ الكَافِرَ إِذا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللهِ وَسَخَطِهِ ، كَرِهَ لِقَاءَاللهِ ، وَكَرِهَ اللهُ لِقاءَهُ
انگریزی ترجمہ
On the authority of Hadrat Abu Hurayrah (may Allah be well pleased with him), who said that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Allah (mighty and sublime be He) said: If My servant loves to meet Me, I love to meet him; and if he dislikes to meet Me, I dislike to meet him. Prophetic explanation of this Sacred Hadith: Hadrat 'A'ishah (may Allah be well pleased with her) said: O Prophet of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), is it because of the dislike of death? For all of us dislike death. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: It is not so, but rather it is that when the believer is given news of Allah's mercy, His approval and His Paradise, he loves to meet Allah and Allah loves to meet him; but when the disbeliever is given news of Allah's punishment and His displeasure, he dislikes to meet Allah and Allah dislikes to meet him. It was related by al-Bukhari and Malik. The Prophetic version is related by Muslim.
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ عزوجل نے فرمایا: جب میرا بندہ میری ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہوں، اور جب وہ میری ملاقات کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہوں۔ اس حدیثِ قدسی کی نبوی تشریح: حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا: یا نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! کیا یہ موت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے ہے؟ کیونکہ ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا نہیں ہے، بلکہ جب مومن کو اللہ کی رحمت، اس کی رضا اور اس کی جنت کی خوشخبری دی جاتی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند فرماتا ہے۔ اور جب کافر کو اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضگی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند فرماتا ہے۔ اسے امام بخاری اور مالک نے روایت کیا۔ نبوی تشریح والی روایت مسلم نے بیان کی۔
