عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ، - مِنْ أَهْلِ ثَغْرٍ ثِقَةٌ - قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَجُبَّةُ حَرِيرٍ فَأَلْقَاهُمَا ثُمَّ سَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلاَمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي . فَقَالَ " إِنَّهُ كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ " . قَالَ لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ . قَالَ " إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا " . قَالَ فَمَاذَا أَتَخَتَّمُ قَالَ " حَلْقَةً مِنْ حَدِيدٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ صُفْرٍ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Abu Sa'eed (may Allah be well pleased with him) Al-Khudri:"A man came from Al-Bahrain to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) [SAW] and greeted him with Salam, but he did not return his greeting. He was wearing a gold ring on his hand, and was wearing a silken Jubbah. He took them off, then he greeted him with Salam, and he returned his greeting. Then he submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I came to you just now, and you turned away from me.' He said: 'You had a coal of fire on your hand.' He said: 'Then I have brought many coals.' He said: 'What you have brought with you is no better for us than the stones of Al-Harrah, but it is a temporary convenience of this world.' He said: 'What should I use for a ring?' He said: 'A ring of iron or silver or brass
اردو ترجمہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص بحرین سے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور سلام عرض کیا مگر آپ نے جواب نہ دیا۔ اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی اور ریشم کا جبّہ پہنا ہوا تھا۔ وہ واپس گیا اور رو رہا تھا۔ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے تمہارا سلام لوٹایا نہیں، اپنی انگوٹھی اتارو اور جبّہ اتارو اور پھر آؤ۔ اس نے ایسا کیا اور پھر آیا اور سلام عرض کیا تو آپ نے جواب دیا اور فرمایا: یہ بہتر ہے۔
