عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ فَأَخَذَهَا يَهُودِيٌّ فَرَضَخَ رَأْسَهَا وَأَخَذَ مَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ فَأُدْرِكَتْ وَبِهَا رَمَقٌ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ " . قَالَتْ بِرَأْسِهَا لاَ . قَالَ " فُلاَنٌ " . قَالَ حَتَّى سَمَّى الْيَهُودِيَّ قَالَتْ بِرَأْسِهَا نَعَمْ فَأُخِذَ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) said: "A girl went out wearing some jewelry and a Jew caught her, crushed her head between two rocks and took the jewelry that she was wearing. She was found as she was breathing her last, and she was brought to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) who said: 'Who killed you? Was it so and so?' She gestured no with her head, and he continued asking until he named the Jew, and she gestured yes with her head. He was caught and he confessed (to his crime), then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) ordered that his head be crushed between two rocks
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک لڑکی نکلی جس پر زیورات تھے، ایک یہودی نے اسے پکڑا، اس کا سر پتھروں سے کچل دیا اور اس کے زیورات چھین لیے۔ وہ پائی گئی جبکہ اس میں ابھی سانس باقی تھی۔ اسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: تمہیں کس نے قتل کیا؟ کیا فلاں نے؟ اس نے سر سے اشارہ کیا: نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: فلاں نے؟ (یہاں تک کہ) جب اس یہودی کا نام لیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ پس اسے پکڑا گیا اور اس نے اعتراف کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔
