عربی (اصل)
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالأَشْتَرُ، إِلَى عَلِيٍّ رضى الله عنه فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لاَ إِلاَّ مَا كَانَ فِي كِتَابِي هَذَا . فَأَخْرَجَ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ فَإِذَا فِيهِ " الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلاَ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ بِعَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Qais bin 'Ubad (may Allah be well pleased with him) said: "Al-Ashtar and I went to Hadrat 'Ali, may Allah be well pleased with him, and said: Did the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah tell you anything that he did not tell to all the people?' He said: 'No, except what is in this letter of mine.' He brought out a letter from the sheath of his sword and it said therein: "The lives of the believers are equal in value, and they are one against others, and they hasten to support the asylum granted by the least of them. But no believer may be killed in return for a disbeliever, nor one with a covenant while his convenant is in effect. Whoever commits an offense then the blame is on himself, and whoever gives sanctuary to an offender, then upon him will be the curse of Allah, the angels and all the people
اردو ترجمہ
حضرت قیس بن عباد فرماتے ہیں کہ میں اور اشتر حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پاس گئے اور عرض کیا: کیا نبی اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو کوئی ایسی بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہیں بتائی؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، سوائے اس کے جو میری اس تحریر میں ہے۔ پھر انہوں نے اپنی تلوار کے غلاف سے ایک تحریر نکالی جس میں لکھا تھا: مومنوں کے خون برابر ہیں، وہ غیروں کے مقابلے میں ایک ہاتھ ہیں، ان میں سے ادنیٰ شخص بھی ان کی ذمہ داری نبھا سکتا ہے۔ خبردار! کسی مومن کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور نہ کسی معاہد کو اس کے عہد کے دوران۔ جس نے کوئی نیا کام (جرم) کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے، اور جس نے کسی مجرم کو پناہ دی تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
