عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِيُّ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لاَ تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلاَ تَسْرِقُوا وَلاَ تَزْنُوا وَلاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ وَلاَ تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ وَلاَ تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ " . خَالَفَهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat ' Ubadah bin As-Samit (may Allah be well pleased with him) said: "While there was a group of his companions around him, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Pledge to me, that you will not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful sexual relations, nor kill your children; you will not utter slander, fabricating from between your hands and feet, and you will not disobey me in goodness (Ma'ruf). Whoever fulfills (this pledge), his reward will be with Allah, and whoever commits any of these actions and is punished for it, it will be an expiation for him. Whoever commits any of these actions then Allah conceals him, then his affair is up to Allah; if He wills He will forgive him, and if He wills punish him."' (Sahih) Ahmed bin Sa'eed contradicted him
اردو ترجمہ
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اور آپ کے گرد صحابہ کرام کی ایک جماعت تھی: مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے، کوئی بہتان نہیں لگاؤ گے جو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے گھڑو، اور نیکی میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ پس جو پورا کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، اور جو تم میں سے کسی نے ان میں سے کوئی گناہ کیا اور اسے سزا دی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے، اور جس نے ان میں سے کوئی گناہ کیا پھر اللہ نے اسے پردہ پوشی فرمائی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے تو معاف فرمائے اور چاہے تو سزا دے۔ احمد بن سعید نے ان سے اختلاف کیا ہے۔
