عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، قَالَ حَدَّثَنَا بِهِ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ، عَبَّاسٍ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ يَحِلُّ لأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلاَّ الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ فَيَرْجِعُ فِيهَا كَالْكَلْبِ يَأْكُلُ حَتَّى إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فَرَجَعَ فِي قَيْئِهِ " .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat 'Amr (may Allah be well pleased with him) bin Shu'aib, from Tawus, from Hadrat Ibn 'Umar and Hadrat Ibn 'Abbas, that they said: "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'It is not permissible for anyone to give a gift then take it back, except a father with regard to what he gives to his son. The likeness of the one who gives a gift then takes it back, is that of the dog which eats then when it is full it vomits, then it goes back to its vomit
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو کوئی عطیہ ( تحفہ ) دے پھر اسے واپس لے لے۔ سوائے باپ کے، جو وہ اپنی اولاد کو دے، اور اس شخص کی مثال جو کسی کو عطیہ دیتا ہے پھر اسے واپس لے لیتا ہے اس کتے کی ہے جو کھاتا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو وہ قے کر دیتا ہے پھر اسی کو چاٹ لیتا ہے“۔
