عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَعَلِيٌّ رضى الله عنه يَوْمَئِذٍ بِالْيَمَنِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا أُتِيَ فِي ثَلاَثَةِ نَفَرٍ ادَّعَوْا وَلَدَ امْرَأَةٍ فَقَالَ عَلِيٌّ لأَحَدِهِمْ تَدَعُهُ لِهَذَا . فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا تَدَعُهُ لِهَذَا . فَأَبَى وَقَالَ لِهَذَا تَدَعُهُ لِهَذَا . فَأَبَى قَالَ عَلِيٌّ رضى الله عنه أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ وَسَأُقْرِعُ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Zaid bin Arqam (may Allah be well pleased with him) said: "I was with the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), and Hadrat 'Ali, may Allah be well pleased with him, was in Yemen at that time. A man came to him and said: 'I saw 'Ali when three men were brought to him who all claimed (to be the father) of a child. Hadrat 'Ali said to one of them: Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. He said to (the next one): Will you give the child up to him? And he refused. Hadrat 'Ali said: You are disputing partners. I will cast lots among you, and whoever wins the draw, the child is for him, and he has to pay two-thirds of the Diyah.' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) laughed so much that his back teeth became visible
اردو ترجمہ
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا اور علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ان دنوں یمن میں تھے، ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں ایک دن علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے پاس موجود تھا، ان کے پاس تین آدمی آئے وہ تینوں ایک عورت کے بیٹے کے دعویدار تھے ( کہ یہ بیٹا ہمارا ہے ) علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں، علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے ( دوسرے سے ) کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا: نہیں، اور تیسرے سے کہا: کیا تم ان دونوں کے حق میں اس بیٹے سے دستبردار ہوتے ہو؟ کہا نہیں، علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے کہا: تم سب آپس میں جھگڑتے اور ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہو، میں تم لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کر دیتا ہوں تو جس کے نام قرعہ نکل آئے لڑکا اسی کا مانا جائے گا اور اسے دیت کا دو تہائی دینا ہو گا ( جو لڑکے سے محروم دونوں کو ایک ایک ثلث تہائی کر کے دے دیا جائے گا ) یہ قصہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے ( اور ایسے زور سے ہنسے ) کہ آپ کی داڑھ دکھائی پڑنے لگی۔
