عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، قَالَ اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَأَخَّرَ الْخُرُوجَ حَتَّى تَعَالَى النَّهَارُ ثُمَّ خَرَجَ فَخَطَبَ فَأَطَالَ الْخُطْبَةَ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى وَلَمْ يُصَلِّ لِلنَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْجُمُعَةَ . فَذُكِرَ ذَلِكَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ أَصَابَ السُّنَّةَ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Wahb bin Kaisan (may Allah be well pleased with him) said: "Eid and Jumu'ah fell on the same day during the time of Ibn Az-Zubair, so he delayed going out until the sun had risen quite high. Then he went out and delivered a Khutbah, and he made the Khutbah lengthy. Then he came down and prayed, and he did not lead the people in praying jumu'ah that day. Mention of that was made to Hadrat Ibn 'Abbas and he said: 'He has followed the sunnah
اردو ترجمہ
وہب بن کیسان کہتے ہیں کہ ابن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دور میں دونوں عیدیں ایک ہی دن میں جمع ہو گئیں، تو ابن حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نکلنے میں تاخیر کی یہاں تک کہ دن چڑھ آیا، پھر وہ نکلے، اور انہوں نے خطبہ دیا، تو لمبا خطبہ دیا، پھر وہ اترے اور نماز پڑھی۔ اس دن انہوں نے لوگوں کو جمعہ نہیں پڑھایا یہ بات حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بیان کی گئی تو انہوں نے کہا: انہوں نے سنت پر عمل کیا ہے ۱؎۔
