عربی (اصل)
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، جَعْفَرُ بْنُ أَبِي وَحْشِيَّةَ - وَهُوَ ابْنُ إِيَاسٍ - عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا } قَالَ نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُخْتَفٍ بِمَكَّةَ فَكَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ - وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ - وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ إِذَا سَمِعُوا صَوْتَهُ سَبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم { وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ } أَىْ بِقِرَاءَتِكَ فَيَسْمَعُ الْمُشْرِكُونَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ { وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا } عَنْ أَصْحَابِكَ فَلاَ يَسْمَعُوا { وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً } .
انگریزی ترجمہ
It is narrated that Hadrat Ibn 'Abbas (may Allah be well pleased with him) said:Concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "And offer your salah (prayer) neither aloud nor in a low voice"- It was revealed when the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) was still (preaching) in secret in Makkah. When he led his companions in prayer, he would raise his voice" -(One of the narrators) Ibn Mani' said: He would recite the Quran out loud"- "And when the idolators heard his voice they would insult the Quran, and the One Who revealed it, and the one who brought it. So Allah, the Mighty and Sublime, said to His Prophet (blessings and peace of Allah be upon him): And offer your salah (prayer) neither aloud that is, such that the idolators can hear your recitation and insult the Quran; nor in a low voice, so that your companions cannot hear; but follow a way between
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم آیت کریمہ: «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے سلسلے میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں چھپے رہتے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام ( رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) کو نماز پڑھاتے تو اپنی آواز بلند کرتے، ( ابن منیع کی روایت میں ہے: قرآن زور سے پڑھتے ) جب مشرکین آپ کی آواز سنتے تو قرآن کو اور جس نے اسے نازل کیا ہے اسے، اور جو لے کر آیا ہے اسے سب کو برا بھلا کہتے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد! اپنی نماز یعنی اپنی قرأت کو بلند نہ کریں کہ مشرکین سنیں تو قرآن کو برا بھلا کہیں، اور نہ اسے اتنی پست آواز میں پڑھیں کہ آپ کے ساتھی سن ہی نہ سکیں، بلکہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ اختیار کریں۔
